درست معنوں میں شان دار زندگی کیا ہے۔

0
1

ایک شخص اپنی بہترین صلاحیتوں کا اظہار کرتاہے تو وہ شان دارہے۔ہم ساری زندگی انتظار کرتے ہیں کہ اگلے وقت میں بہتر کریں گے مگر ’’ اگلا ‘‘ وقت نہیں آتا ۔اس کے لیے بہتر یہی ہے کہ ہم اپنی بہترین صلاحیتوں کا اظہار فوری کرنا شروع کردیں۔یہ اظہار ایک وقت کا ،ایک زمانے کا ،ایک صورت حال کا،ایک دن کا اور ایک لمحے کا ہو سکتا ہے۔مثلا،آج آپ کی بہترین صلاحیت کچھ اور ہے،دس سال پہلے کچھ اور تھی۔ اسی طرح ہماری صلاحیت کے اظہار کا معیار بدل جائے گا،کیونکہ آپ میں بہتری آرہی ہے۔
حضرت مولانا جلال الدین رومیؓ فرماتے ہیں،میں نے دیکھا کہ بھیڑوں کے ایک گلے میں شیر کا بچہ رہنے لگا ۔دیکھتے ہی دیکھتے اس کی ساری عادات بھیڑوں والی ہوگہیں۔ایک دن اس نے شیروں کا جھنڈکو دیکھا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں سے ایک شیر نکلا اور      اس نے ایک بھیڑکو چیر پھاڑدیا ۔اس عمل سے اس بچے کے اندر کا شیر جاگ گیا
مشہور زمانہ ٹرینر اور مصنف روبن شرما کچھ لوگوں کو ٹریننگ دے رہا تھا ۔اس نے تمام شرکا میں ایک ایک سیب تقسیم کیا اور کہا کہ اسے کھا ئیں ۔ان سب نے سیب کھانا شروع کر دیا۔ان میں سے کسی نے جلدی سیب کھا لیا تو کسی نے زیادہ وقت لگایا۔ آدھے گھنٹے میں یہ مشق ختم ہو گئی۔اس کے بعد نئے سیب دیے گئے اور شرکا سے کہا گہا کہ اب یہ سیب اس طرح کھانا ہے کہ یہ آپ کی زندگی کا آخری سیب ہے۔ یہ سنتے ہی شرکا نے اپنے اپنے سیبوں کو مزے لے لے کر کھاناشروع کر دیا۔ہر فرد اپنے سیب کے ذائقہ سے محظوظ ہو رہا تھا۔کسی کو جلدی نہیں تھی۔جب انھیں پتا چلا کہ یہ سیب ان کی زندگی کا آخری سیب ہے تو وہ اس سے مزہ لینے لگے۔اس مشق کے بعد روبن شرما کہتا ہے کہ یہ لمحہ جو آپ گزار رہے ہیں،یہ بھی آخری سیب ہی ہے۔آپ جو دن گزار رہے ہیں،یہ بھی آخری سیب ہی ہے۔ یہ وقت جو آپ گزار رہے ہیں،یہ بھی آخری سیب ہی ہے،مگر ہمیں واہمہ ہوتا ہے کہ یہ آخری سیب نہیں ہے۔یہ اآخری لمحہ نہیں ہے۔چنانچہ ہم اپنی زندگی سے لطف نہیں اٹھا پاتے۔
ہم دنیا کے کیلنڈر پر لاکھ جادو کر لیں ،ممکن نہیں ہے کہ آج کا دن آپ کی زندگی میں دوبارہ آئے ،اس لیے آج کے دن کو سلام کیجیے اور خوش دلی سے اس کا استقبال ۔آج کا دن اللہ نے آپ کو انعام کے طور پر دیا ہے۔اس کا بہترین استعمال کیجیے ۔کبھی بھی زندگی میں کوئی چیز ضائع کرنے لگیں تو آخری سیب کو ضرور یاد کر لیجیے۔

Comments

comments

LEAVE A REPLY