شوق یا پیسہ

0
2

عظیم پریم جی جو ہندستان کے بڑے کاروبار یوں میں سے ہیں،کہتے ہیں،’’میں اور میری کمپنی کبھی پیسے کے پیھپے نہیں بھاگے ۔ہم   ” ہمیشہ ساکھ کے پیھپے بھاگتے ہیں جس کی وجہ سے پیسہ ہمارے پیھپے    بھاگتاہے

      یہ الفاظ ایک کامیاب ترین کاروباری کے ہیں ۔اس کے برخلاف ہمیں سکھایا ہی یہ جاتا ہے کہ تم اس لیے پڑھ رہے ہوتا کہ نوکری مل جا ئے۔لڑکی اس لیے پڑھ رہی
اچھا رشتہ مل جا ئے۔جب ہمارے اہداف ہی اتنے چھوٹے ہوں گے تو پھر زندگی کہاں گزرے گی ۔ خدارا،اس کام کو کریں جس کے لیے اللہ تعالی نے آپ کو پیدا کیا ہے تا کہ کام آپ کو کام نہ لگے۔اگر کام آپ کو کام لگے اور آپ کے لیے بوجھ بن جائے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنے شوق کو دریافت نہیں کر سکے ہیں ۔آپ نے کاموں کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے۔اور زندگی جس کے لیے بوجھ ہوتی ہے۔وہ مردہ ہوتا ہے۔صرف دفنانا باقی ہے۔مشہور فلم،’’ تھری ایڈیٹس ‘‘ کے آخر میں فوٹوگرافراپنے والد سے کہتا ہے۔ ’’ فادر!اٹس او کے۔۔۔۔                                                                                                پیسہ کم کمالوں گا لیکن وہ کروں گا جس میں میری تسلی ہے میرا جذبہ ہے۔

Comments

comments

LEAVE A REPLY